اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایرانی صدر نے کہا ہے کہ ملک سے بے روزگاری کی شرح میں کمی اور اس کا مکمل خاتمہ آسان کام نہیں مگر اس مقصد کو پانے کے لئے قوم کا تعاون اور پختہ عزم ناگزیر ہے.
ان خيالات كا اظہار صدر مملكت 'حسن روحاني' نے جمعرات كے روز ايراني كے شمالي صوبے گيلان كے عمائدين، ماہرين اور اعلي كاركردگي ديكھانے والے نوجوانوں كے ساتھ ايك خصوصي نشست سے خطاب كرتے ہوئے كيا.
اس موقع پر انہوں نے كہا كہ ملك ميں قومي پيداوار ميں اضافہ اور نوجوان طبقے كے لئے روزگار كے مواقع كي فراہمي موجودہ حكومت كي اہم ترجيح ہے.
انہوں نے مزيد بتايا كہ ہماري تمام كوششيں قومي پيداوار كو بڑھانے اور روزگار كے مواقع ميں اضافے پر مركوز ہوني چاہئيں.
صدر روحاني نے كہا كہ بے روزگاري ہمارے كندھوں پر ايك بھاري بوجھ ہے، 2013 كے صدارتي انتخابات كے بعد سپريم ليڈر حضرت آيت اللہ خامنہ اي كے ساتھ ہونے والي پہلي ملاقات ميں انہوں نے كہا تھا كہ جوہري مذاكرات يا سياسي مسائل موجودہ حكومت كے لئے مشكل نہيں بلكہ نوجوانوں كے لئے روزگار كے مواقع اصل مسئلہ ہے.
ايران ميں ہونے والے آئندہ انتخابات كا حوالہ ديتے ہوئے صدر روحاني نے قوم سے مطالبہ كيا ہے كہ انتخابات ميں بھرپور حصہ ليں كيونكہ اس عمل سے ملك كي بقا يقيني بن جائے گي اور وطن عزيز كي سلامتي مزيد مستحكم ہوگي.
انہوں نے كہا كہ ملك ميں انتخابات كا انعقاد اور قوم كا ووٹ سے مخالف نظريہ ركھنے والے ترقي اور خوشحالي كي راہ ميں ناكام ہوں گے.
ڈاكٹر روحاني نے مزيد كہا كہ وطن عزيز ايران ميں مختلف مذاہب اور اقوام قانون كے سائے ميں يكجہتي، ہم آہنگي اور وحدت كو محسوس كر رہي ہيں، يہاں سياسي اور انتخاباتي مقابلے ايك پرامن اور اخلاقي فضا ميں انجام پاتے ہيں.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲